4 جنوری 2026 - 21:03
ایران: ملک بھر کی 5000 مساجد میں 600,000 طلباء و طالبات کا اعتکاف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تعلیم نے ملک میں طلبہ کے اعتکاف کے انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس سال طلباء کے لئے مختص تقریباً 5000 مساجد میں اعتکاف کی تقریب میں 600,000 سے زائد طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تعلیم، علی رضا کاظمی نے آج تہران کی "فاطمیہ بزرگ" میں طلباء کے اعتکاف کی روحانی تقریب میں اعتکاف کرنے والے طلباء کو مبارکباد پیش کی اور اس اس روحانی عمل کو انسانی زندگی کی راہ میں اہم ترین تعلیمی اور اثر انگیز موقع قرار دیا۔

انھوں نے طلباء کی پرجوش موجودگی پر اپنی قدردانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ الہی کامیابی والدین کی دعاؤں، دیانتداری، پاکیزگی، کوشش اور طلباء کی اپنی تیاری کا نتیجہ ہے اور اسے حادثاتی اور اتفاقی نہیں سمجھنا چاہئے۔

ایک جامع تعلیمی موقع کے طور پر اعتکاف کے کردار پر زور دیتے ہوئے، کاظمی نے مزید کہا: اعتکاف صرف ایک انفرادی عبادت نہیں ہے، بلکہ خود علم، نظم و ضبط، ذمہ داری، قربانی، سماجی تعاون، اور مذہبی اور اخلاقی تصورات کی عملی مشق ہے جو کسی شخص کی زندگی کا دھارا بدل سکتی ہے۔

وزیر تعلیم نے ملک میں طلباء کے اعتکاف کے وسیع انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس سال تقریباً 5000 مساجد میں اعتکاف کی تقریب میں 600,000 سے زائد طلباء نے شرکت کی اور یہ گروہ اسلامی جمہوریہ ایران کی آنے والی نسل کی نمائندگی کرتا ہے۔

کاظمی نے اسلامی تبلیغی تنظیم، قومی اعتکاف ہیڈ کوارٹر، بسیج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سمیت ایگزیکٹو، تبلیغی اور ثقافتی اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا: اس ہم آہنگی نے طلباء کے لیے تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے رجب المرجب کے مقدس مہینے سے فائدہ اٹھانے کی سفارش کرتے ہوئے اس مہینے کے تین ستونوں "اعتکاف"، "روزہ" اور "استغفار" کو اس مہینے کے اہم ترین اعمال کے طور پر بیان کیا  کہا: استغفار انسان کی مادی اور روحانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے اور روحانی نشوونما کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے، خاص طور پر تہجد کی نماز میں۔"

آخر میں وزیر تعلیم نے اساتذہ، مربیوں، منتظمین اور مساجد کے خادمین کا شکریہ ادا کیا اور بارگاہ خداوندی سے طلباء کی کامیابی اور کامرانی کے لئے دعا کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha